Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
37 - 152
کہا جاتا ہے مثلاًموسم وغیرہ پر تبصرہ کرنامثلاً آج بڑی گرمی ہے، یا ایسے سوالات کرناجس سے نہ کوئی دنیاوی فائدہ حاصل ہو اور نہ ہی اُخروی۔مثلاً آپ کی موٹر سائیکل کون سے ماڈل کی ہے ؟(جبکہ اس سوال کا کوئی مقصد نہ ہو۔)
اِن اَقسام کی تفصیل 

(1) نقصان دہ کلام :
    اس قسم کا کلام کرناسراسر باعث ِ ہلاکت ہے لہذا!اس سے بچنا بے حدضروری ہے جیسا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرمصلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا : ''لوگ تین قسم کے ہیں ، ایک غنیمت حاصل کرنے والا ،دوسرا محفوظ رہنے والا اور تیسرا ہلاک ہونے والا ، غنیمت حاصل کرنے والا وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے ، محفوظ رہنے والا وہ شخص ہے جو خاموش رہتا ہے اور ہلاک ہونے والا وہ شخص ہے جو باطل میں پڑتا ہے ۔''
 (شعب الایمان، باب فی الاعراض عن اللغو،رقم۱۰۸۱۵،ج۷،ص۴۱۷)
    پیارے اسلامی بھائیو! نقصان دہ کلام کی صورتیں بہت زیادہ ہیں ، اختصار کے پیش ِ نظر یہاں منتخب اقسام کی وضاحت کرنے پر اکتفاء کیا گیا ہے ۔
پہلی قسم         کلمۂ  کفرکہہ دینا
    پیارے اسلامی بھائیو !ایک مسلمان کے لئے سب سے قیمتی متاع اس کا ایمان ہے اور ایمان کا مطلب یہ ہے کہ سچے دل سے ان سب باتوں کی تصدیق کرے جن کا تعلق ضروریاتِ دین سے ہو۔
 (البحرالرائق ،کتاب السیر،باب احکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۲)
     اور ضروریاتِ دین سے مراد دین کے وہ مسائل ہیں جنہیں ہر خاص وعام
Flag Counter