پیارے اسلامی بھائیو!ذراتصور تو کیجئے کہ میدانِ محشر کی خوفناک فضاء میں کہ جب پیاس کی شدت سے دم نکلا جارہا ہو، بھوک سے کمر ٹوٹ رہی ہو ،جہنم کی ہولناک سزاؤں کا سوچ کر کلیجہ منہ کو آرہا ہوپھر وہاں ہمارے متعلقین بھی موجود ہوں تو مُغَلَّظات وفضولیات سے بھر پور نامۂ اعمال کو پڑھناکتنا دُشوار کام ہے؟۔۔۔۔۔۔
لہذا!میدانِ محشر میں اس ممکنہ پریشانی سے بچنے کے لئے ہمیں اپنی زبان کی حفاظت سے ذرّہ برابر بھی غفلت نہیں کرنی چاہے ۔ہمارے اکابرین نے بھی ہمیں یہی تلقین فرمائی ہے ،چنانچہ
(۱) حضرتِ سیدناابوجحیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول ِ اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا: ''اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کونسا ہے؟'' صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی جواب نہیں دیا اورخاموش رہے ۔ پھر آپ صلي اللہ عليہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا:''زبان کی حفاظت۔ ''