Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
32 - 152
    (5) حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:''اللہ عز وجل کی قسم! زمین پر زبان سے زیادہ قیدی بنانے کے لائق کوئی شے نہیں ۔''
 (الترغیب والترہیب ، کتاب الادب ، رقم :۱۳، ج۳،ص۳۳۷)
    (6) اکابرین فرماتے ہیں کہ ''زبان ایک درندے کی مانند ہے اگر تم اسے باندھ کر نہیں رکھو گے تو یہ تمہاری دشمن بن جائے گی اور تمہیں نقصان پہنچائے گی۔''
 (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۶)
پیارے اسلامی بھائیو!

    نتائج سے بے پرواہ ہوکر بلا تکان بولتے چلے جانا آج ہماری عادت بن چکا ہے مگر یادرکھئے کہ ہماری زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ نوٹ کیا جارہا ہے ،جیسا کہ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ہے :
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾
ترجمۂ کنزالایمان : کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔''
 (پ ۲۶،قۤ :۱۸ )
    اور میدانِ محشر کے وحشت ناک ماحول میں ہمیں اس تحریر شدہ نامۂ اعمال کو پڑھ کر سنانا پڑے گا ، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے :
 وَ نُخْرِجُ لَہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ کِتٰبًا یَّلْقٰىہُ مَنۡشُوۡرًا ﴿۱۳﴾اِقْرَاۡ کِتٰبَکَ ؕ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیۡکَ حَسِیۡبًا ﴿ؕ۱۴﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور اس کے لئے قیامت کے دن ایک نوشتہ(یعنی نامۂ اعمال) نکالیں گے جسے کھلا ہوا پائے گا ، فرمایا جائے گا کہ اپنا نامہ پڑھ آج تو خود ہی اپنا حساب کرنے کو بہت ہے ۔''
 (پ۱۵، بنی اسرائیل :۱۳،۱۴)
Flag Counter