| جنّت کی دوچابیاں |
ہوجائے تو مشرق ومغرب کی ہر چیز اس کی پاکیزہ خوشبو سے بھر جائے۔جنتی شخص اپنی مسہری پر بیٹھا ہوگا اچانک اس کے سر پرایک نور ظاہر ہوگا وہ گمان کریگا کہ شاید اللہ عز وجل اپنی مخلوق پرنگاہ کرم فرمارہا ہے لیکن جب وہ اس نور کو دیکھے گا تووہ ایک حور ہوگی جو یہ کہہ رہی ہوگی :'' اے اللہ عز وجل کے ولی ! کیا تمہارے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ہے ؟ ''وہ پوچھے گا :'' تم کون ہو؟ ''تووہ کہے گی:'' میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا ہے
وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾
ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے ۔(قۤ:۳۵)'' پھر وہ اس کی طرف رخ کرے گا تو دیکھے گاکہ اس کے پاس جو حسن وجمال ہے وہ پہلے والی حوروں میں نہیں ۔
پھر جب وہ اس حور کے ساتھ اپنی مسہری پر بیٹھا ہوگاتواسے ایک او رحور پکارے گی :''اے اللہ عز وجل کے ولی ! کیا تمہارے پاس ہمارے لیے وقت نہیں ؟ ''وہ پوچھے گا:'' تم کون ہو؟ وہ کہے گی :''میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ عز وجل نے فرمایاہے:فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَہُمۡ مِّنۡ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ۚ جَزَآءًۢ بِمَاکَانُوۡایَعْمَلُوۡنَ ﴿۱۷﴾
ترجمہ کنزالایمان :تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپارکھی ہے صلہ ان کے کاموں کا۔(پ۲۱،سورۃ السجدہ : ۱۷)'' پھر وہ اسی طرح اپنی بیویوں میں سے ایک حورسے دوسری کی طرف منتقل ہوتا رہے گا۔''
(الترغیب الترہیب ،کتاب صفۃ الجنۃ والنار ،رقم الحدیث ۹۴،ج۴،ص۲۹۷)
(۵) حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں :'' اگر حور اپنی ہتھیلی زمین وآسمان کے درمیان ظاہر کردے تو اسکے حسن کی وجہ سے مخلوق فتنے میں پڑجائے اوراگروہ اپنی اوڑھنی ظاہر کردے تو سورج اسکے حسن کی وجہ سے دھوپ میں رکھے ہوئے