Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
22 - 152
اوڑھنی(یعنی دوپٹا) دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ ''
 (الترغیب والترھیب،کتاب صفۃ الجنۃ،رقم الحدیث۸۴،ج۴،ص۲۹۵)
    (۲) حضرتِ سیدناسعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ''اگر جنتیوں میں سے کوئی شخص (دنیا کی طرف) جھانکے اور اس کے کنگن ظاہر ہو جائیں تو اس کی روشنی سورج کی روشنی کو مٹا دے جیسے کہ ستاروں کی روشنی کو سورج مٹا دیتا ہے۔ ''
 (ترمذی،کتاب صفۃ الجنۃ ،رقم الحدیث۲۵۴۷،ج۴،ص۲۴۱)
    (۳) حضرتِ سیدنا عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک حوروں میں سے ہر حور کی پنڈلی کی سفید ی ستر حلوں کے باہر سے نظر آتی ہے بلکہ اس کی پنڈلی کامغز تک نظر آتاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا:
کَاَنَّـہُنَّ الْیَاقُوۡتُ وَ الْمَرْجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾
ترجمہ کنزالایمان :گویاوہ لعل اور یاقوت اور مونگاہیں۔(الرحمن :۵۸)''اوریاقوت ایک ایسا پتھر ہے کہ اگرتم اس میں دھاگہ ڈالوپھر اسے بند کردو پھر بھی اسکے باہر سے تمہیں وہ دھاگہ نظر آئے گا۔''
 (ترمذی ، باب فی صفۃ نساء اھل الجنۃ ، رقم ۲۵۴۱ ، ج۴ ، ص ۲۳۹ )
    (۴) حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل امین نے مجھے بتایا :'' جب کوئی آدمی کسی حور کے پاس جائے گا تو وہ اس سے معانقہ اورمصافحہ کر کے اس کااستقبال کرے گی ۔''پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''پھر تم اس کی جن انگلیوں سے چاہوپکڑو،اگراس کی انگلی کا ایک پورا دنیا پر ظاہر ہوجائے تو اسکے سامنے سورج اورچاند کی روشنی ماند پڑ جائے اوراگراسکے بالوں کی ایک لٹ ظاہر
Flag Counter