Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
142 - 152
    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں :''اجنبی عورت سے خلوت حرام ہے اور اس سے گفتگو کرنا مکروہ ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ،ج ۱۰،نصف آخر ،ص ۷)

    عورت سے گفتگو کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کچھ اس طرح ارشاد فرمایا :''تمام محارم سے عورت کو گفتگو کرنا اور انہیں اپنی آواز سنوانا جائز ہے اور اگر کوئی حاجت ہو اور اندیشۂ فتنہ نہ ہو اور تنہائی نہ ہو تو پردے میں رہتے ہوئے بعض نامحرم سے بھی گفتگو جائز ہے ۔''(تسہیلاً من فتاویٰ رضویہ ،ج ۱۰،نصف آخر ،ص ۱۶۱)

(۵) امردوں کے قرب سے بچے :

    حضرت حسن بن ذکوان علیہ الرحمۃ فرمایا کرتے تھے:' مالداروں کی اولاد کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ رکھو کیونکہ ان کی صورتیں،کنواری عورتوں کی صورتوں کی مثل ہوتی ہیں،چنانچہ وہ باعتبار ِ فتنہ عورتوں سے زیادہ شدید ہیں۔''(کتاب الکبائر،ص۶۴)

    ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوری علیہ الرحمۃ حمام میں داخل ہوئے تو آپ کی نظر وہاں موجود ایک خوبصورت لڑکے پر پڑی ،آپ نے لوگوں سے فرمایا،''اسے میرے پاس سے دور کردو ، اسے باہر نکال دو،کیونکہ میں عورت کے ساتھ ایک اور خوبصورت لڑکے کے ساتھ سترہ شیطان گمان کرتا ہوں۔''(کتاب الکبائر،ص۶۴)

    اس سلسلے میں شیخ طریقت امیرِ اہلِ سنت حضرت مولانا ابوبلال محمدالیاس عطار قادری مدظلہ العالی کا تحریر کردہ رسالہ ''امرد پسندی کی تباہ کاریاں''پڑھنا بے حد مفید ہے۔اس رسالے میں شہوت پر قابو پانے کے لئے وظائف بھی دئيے گئے ہیں ۔