رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں۔''(پ ۱۸ ، النور: ۳۰ ، ۳۱)
اور اگر کبھی بالفرض اچانک کسی عورت پر نگاہ پڑ جائے توایسے شخص کو چاهئے کہ اپنی نگاہ فوراًجھکا لے۔ حضرتِ ابواُمَامَہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''جو مسلمان عورت کے محاسن کی طرف دیکھے پھر اپنی نگاہ جھکالے اللہ عزوجل اسے ایسی عبادت کی تو فیق عطافرمائے گا جس کی حلاوت وہ اپنے قلب میں پائے گا۔''
(مسند احمد بن حنبل، مسند ابو امامۃ، رقم ۲۲۳۴۱ ،ج۸ ،ص ۲۹۹)
پھر اگر مذکورہ شخص شادی شدہ ہو تو فورا اپنی زوجہ کے پاس آئے تاکہ نظر کے مضر اثرات سے محفوظ رہ سکے۔حضرت جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ''رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:'' عورت شیطان کی شکل میں آتی جاتی ہے تو جب تم میں سے کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے، تو اپنی اہلیہ کے پاس جائے ،یہ عمل اس کے دل میں پیدا ہونے والے وسوسوں کو دور کر دے گا۔''
(ابوداؤد ، کتاب النکاح ،باب مایؤمر بہ من غصن البصر رقم ۲۱۵۱،ج۲،ص۳۵۸)
کسی نے حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمۃ سے پوچھا،''میں اپنی آنکھ کو بدنگاہی سے نہیں بچا پاتا ،میں کس طرح اس کی حفاظت کروں ؟'' آپ نے ارشاد فرمایا،''تم اس بات کا یقین کر لو کہ جب تم کسی کو بری نظر سے دیکھ رہے ہوتے ہو تو حق تعالیٰ تمہیں کہیں زیادہ دیکھ رہا ہوتا ہے ۔''(کیمیائے سعادت، ج ۲، ص ۸۸۶)
حضرت سیدنا مجمع رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اوپر کی طرف دیکھا تو ایک چھت پر موجود کسی عورت پر نظر پڑ گئی ۔آپ نے فوراً نگاہ جھکا لی اور اس قدر پشیمان ہوئے کہ عہد کر لیا