میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
اس سلسلے میں شیخ طریقت ،امیر اہل سنت ،بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری مدظلہ العالی کی درد وسوز سے معمور ایک تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے ،چنانچہ آپ فرماتے ہیں ،
''آہ!گناہوں کے سيلاب کی ہلاکت سامانياں ،يہ فحاشی اور عريانی کا طوفان، مخلوط تعليمی نظام،مختلف شعبہ ہائے زندگی ميں مردوں اور عورتوں کا اختلاط، T.V اورV.C.Rپرفلميں ،ڈرامے اور شہوت افزاء مناظر،رسائل و جرائد کے SEX APPEAL مضامين وغيرہ نے مل جل کر آج کے نوجوان کو باؤلا بنا ڈالا ہے ۔عربی مقولہ ہے ''الشباب شعبۃ من الجنون''يعنی جوانی ديوانگی ہی کا ايک شعبہ ہے،آج کے نوجوان پر شيطان نے اپنا گھيرا تنگ کر ديا ہے ،خواہ بظاہر نمازی اور سنتوں کا عادی ہی کيوں نہ ہو ،اپنی شہوت کی تسکين کے ليے مارا مارا پھر رہا ہے ،معاشرہ اپنے غلط رسم و رواج کے باعث بے چارے کی شادی ميں بہت بڑی ديوار بن چکا ہے ،امتحان،سخت امتحان ہے ،مگر امتحان سے گھبرانا مردوں کا شيوہ نہيں ۔صبر کر کے اجر لوٹنا چاهیے کہ شہوت جتنی زيادہ تنگ کرے صبر کرنے پر ثواب بھی اتنا ہی زيادہ ملے گا ۔اگر شہوت سے مغلوب ہو کر اس کی تسکين کے ليے ناجائز ذرائع اختيار کئے تو دونوں جہاں کا نقصان اور جہنم کا سامان ہے ۔حضرت سيدنا ابو الدردا ء رضی اللہ عنہ فرماتے ہيں ،''شہوت کی گھڑی بھر پيروی طويل غم کا باعث ہوتی ہے''۔يہ لکھتے ہو ئے کليجہ کانپتا اور حيا سے قلم تھرّاتا ہے مگر ميری ان معروضات کو بے حيائی پر مبنی نہيں کہاجا سکتا بلکہ يہ تو عين درس حيا ہے ۔''اللہ عزوجل ديکھ رہا ہے''يہ ايمان رکھنے کے باوجود جو لوگ اپنے زعم فاسد ميں ''چھپ کر''بے حيائی کا