Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
133 - 152
فاعل ومفعول کی اُخروی سزا:

    (۱) حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے،'' جس نے کسی کو خود پر بخوشی قدرت دی ، حتی کہ دوسرے نے اس سے منہ کالا کیاتو اللہ تعالیٰ اسے عورتوں کی سی شہوت میں مبتلاء فرما دے گا اور قیامت تک اس کی قبرمیں شیطان کو اس کے قریب رکھے گا۔''

(کتاب الکبائر،ص ۶۶)

    (۲) حضرت سیدنا وکیع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص قومِ لوط کا ساعمل کرتے ہوئے مرے گا تو بعدِ تدفین اسے قومِ لوط کے قبرستان میں منتقل کردیا جائے گا اور اس کا حشر انہی کے ساتھ ہوگا ۔(کنزالعمال ،کتاب الحدود ،رقم ۱۳۱۲۷،ج۵،ص۱۳۵)

    (۳) مروی ہے کہ حضرت عیسی عليه السلام دوران سفر ایک آگ کے پاس سے گزرے،جو ایک مرد پر جل رہی تھی۔آپ نے اس آگ کو بجھانے کے لئے اس پر پانی ڈالا۔ اچانک اس آگ نے ایک لڑکے کی صورت اختیار کر لی اور وہ مرد آگ بن گیا۔آپ کو اس سے بہت تعجب ہوااورآپ نے بارگاہِ الہٰی میں عرض کی،'' اے میرے رب!ان دونوں کو ان کے دنیاوی حال پر لوٹا دے تاکہ میں ان سے ان کے بارے میں پوچھ سکوں۔''

    چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کوزندہ فرما دیا ۔آپ نے دیکھا کہ وہ ایک مرد اور ایک لڑکا تھا۔آپ نے ان سے فرمایا،''تم دونوں کا کیا معاملہ ہے؟'' مرد نے جواب دیا،'' اے روح اللہ!میں دنیا میں اس لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوگیا تھا، شہوت نے مجھے ابھارا کہ میں اس سے برا کام کروں پھر جب میں اور یہ لڑکا مر گئے ،تویہ آگ