جس شخص کو قوم لوط کا عمل کرتے پاؤ تو کرنے اور کروانے والے دونوں کو قتل کر دو۔''(مستدرک ،کتاب الحدود،رقم ۸۱۱۳،ج۵،ص۵۰۸)
اور حضرت ابن عباس رضي الله عنهان کے لئے فرمایا کرتے تھے،'' یعنی بستی میں کوئی اونچی دیوار دیکھی جائے اور لوطی کو اس کے نیچے ڈال دیا جائے ،پھر اسکے ساتھ پتھروں والا معاملہ کیا جائے جیسا قوم لوط کے ساتھ کیا گیا تھا۔''
حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی جانب ایک خط لکھ کر بھیجا کہ میں نے یہاں ایک ایسا شخص پایا ہے، جوبخوشی دوسروں کو اپنی ذات پر قدرت ديتا ہے۔'' حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ طلب فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا،''بے شک یہ ایک ایسا گناہ ہے ،جسے فقط ایک امت یعنی قوم لوط نے کیا ہے اور بے شک اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتادیا کہ اس نے اس قوم کے ساتھ کیاکیا،چنانچہ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو جلا دیا جائے۔''
پس حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اسے آگ میں جلا دیا جائے۔آپ نے حسب ِحکم اسے آگ میں جلوا دیا۔'' (کتاب الکبائر،ص۶۶)
مدینہ :۔
زنا اور لواطت کی بیان کردہ شرعی سزائیں نافذ کرناحاکم اسلام کا کام ہے ،عوام کو چاہے کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ فلاں نے زنا یا لواطت جیسا قبیح فعل کیا ہے تو اس سے اس وقت تک سماجی تعلق ختم کرلیں جب تک وہ کامل توبہ نہ کرلے۔