اس کی مذمت میں احادیث ِ مقدسہ:
(۱) حضرت عمرو بن ابی عمرورضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''جو قوم لوط کا سا عمل کرے ،وہ ملعون ہے۔''
(ترمذی،کتاب الحدود،باب ماجاء فی حد اللوطی ،رقم ۱۴۶۱ج۳،ص۱۳۷)
(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: ''چار قسم کے لوگ ایسے ہیں، جو صبح اللہ تعالیٰ کے غضب میں اور شام اس کی ناراضگی میں کرتے ہیں۔''عرض کی گئی:''یا رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم ! وہ کون ہیں؟ ''ارشاد فرمایا:''وہ مرد جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اوروہ عورتیں جو مردوں سے مشابہت اختیار کرتی ہیں اور جانوروں اور مردوں سے بد فعلی کرنے والے۔''(کنزالعمال،کتاب المواعظ،رقم۴۳۹۷۵،ج۱۶،ص۳۱)
(۳) حضرت ابو سعیدخُدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں،''عنقریب اس امت میں ایک ایسا گروہ ہوگا جو لوطیہ کہلائے گا۔یہ تین قسم کے ہوں گے۔
(i)جو امردوں کی صورتیں دیکھیں گے اور ان سے بات چیت کریں گے،
(ii)جو ان سے ہاتھ ملائیں گے اور گلے بھی ملیں گے ،
(iii)جو ان سے بدفعلی کریں گے۔
ان سبھی پر اللہ عزوجل کی لعنت ہے مگر جو توبہ کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لے گا اور وہ لعنت سے بچے رہیں گے ۔(کنزالعمال ،کتاب الحدود،رقم ۱۳۱۲۹ج۵،ص۱۳۵)
اس کی شرعی سزا:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ارشاد فرمایا:''تم