| جنّت کی دوچابیاں |
میں سے ایک کہے گا:''میں نے سنا تھا۔''دوسرا کہے گا،''اور میں نے لکھا تھا۔''
اللہ تعالیٰ فرمائے گا،''میں اس کے کام پر مطلع تھا اور میں نے اس کا پردہ رکھا تھا۔''پھر فرمائے گا،''اے میرے فرشتو!اسے پکڑ لواور میرا عذاب اسے چکھاؤ۔بے شک اس پر میرا عذاب شدید ہوتا ہے، جو مجھ سے شرم وحیاء میں کمی کرتاہے۔''(کتاب الکبائر،صفحہ ۵۹)(2) لواطت:
بے شمار دنیاوی واُخروی آفات کا سبب بننے والے اس مذموم فعل کی قباحت قرآن کریم اور احادیث کریمہ سے ثابت ہے ،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
وَلُوۡطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖۤ اَتَاۡتُوۡنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۸۰﴾اِنَّکُمْ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور لوط کو بھیجا جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔'' (پ۸،اعراف:۸۰،۸۱)
قومِ لوط(علیہ السلام)پر اسی کی وجہ سے عذاب نازل ہوا تھا،جس کا بیان قرآن مجید فرقانِ حمید میں ان الفاظ سے کیا گیا ہے:فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَہَا سَافِلَہَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیۡہَا حِجَارَۃً مِّنۡ سِجِّیۡلٍ ۬ۙ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۸۲﴾
ترجمہ کنزالایمان :پھر جب ہمارا حکم آیا ہم نے اس بستی کے اوپر کو اس کا نیچا کر دیا اور اس پرکنکر کے پتھر لگاتار برسائے۔''(ھود:۸۲)