ترجمہ کنزالایمان : اور تم سے پوچھتے ہیں حیض کا حکم ، تم فرماؤ کہ وہ ناپاکی ہے، تو عورتوں سے الگ رہو ،حیض کے دنوں (میں )۔''(پ ۲،البقرۃ : ۲۲۲)
صدر الشریعہ حکیم مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں :'' اس(یعنی حیض ونفاس کی ) حالت میں ناف سے گھٹنے تک عورت کے بدن سے مرد کا اپنے کسی عضو سے چھونا جائز نہیں جبکہ کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو ،شہوت سے ہویا بلاشہوت اور اگر ایسا (کپڑا وغیرہ) حائل ہو کہ بدن کی گرمی محسوس نہ ہوگی تو حرج نہیں ۔''
(بہار شریعت ، مسئلہ نمبر ۳۱، حصہ ۲،ص ۱۱۸)
مزید لکھتے ہیں :'' ناف سے اوپر اور گھٹنے سے نیچے چھونے یا کسی طرح کا نفع لینے میں کوئی حرج نہیں ۔(بہار شریعت ، مسئلہ نمبر ۳۲، حصہ ۲،ص ۱۱۸)
(۲) پچھلے مقام میں وطی کرنا:
رحمتِ عالم صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا:'' جوشخص اپنی زوجہ سے اس کی دبر میں وطی کرے ،ملعون ہے۔''(ابوداؤد۔کتاب النکاح، باب فی جامع النکاح،رقم ۲۱۶۲،ج۲،ص۳۶۲)
ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:''اللہ تعالیٰ اس مرد پر نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا جو مرد کے ساتھ جماع کرے یا عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرے ۔''
(جامع ترمذی،کتاب الرضاع ، باب ماجاء فی کراھیۃ اتیان النساء فی ادبارھن،رقم۱۱۶۸،ج۲،ص۳۸۸ )
(۳) برہنہ حالت میں قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنا :
فتاویٰ رضویہ میں ہے :''بحالتِ برہنگی قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا مکروہ تحریمی ہے ۔(فتاویٰ رضویہ ،ج۱۰،نصف اول ، ص ۱۴۰)