بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے۔ ایسی حالت میں نکاح نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔اگر حرام سے بچنا..یا..اتباعِ سنت ..یا.. اولاد کا حصول پیش ِ نظر ہو تو ثواب بھی پائے گااور اگر محض حصول ِ لذت یا قضائے شہوت مقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا ،نکاح بہر حال ہوجائے گا ۔
مکروہ:
اگر یہ اندیشہ ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا مکروہ ہے۔
حرام :
اگر یہ یقین ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے(ایسی صورت میں شہوت توڑنے کے لئے روزے رکھنے کی ترکیب بنائے)۔
(ماخوذ از بہارشریعت،کتاب النکاح،حصہ۷،ص۵۵۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
یہ بھی ذہن میں رہے کہ مرد پر لازم ہے کہ اپنی زوجہ سے قضائے شہوت کرنے میں بھی شریعت کی قائم کردہ حدود کی پاسداری کرے۔لہذا! اگراس نے شرعی حدود کو قائم نہ رکھا تو وہ گناہ گار ہوگا ،شرعی حدود کو توڑنے کی کئی صورتیں ہیں۔مثلا ً
(۱) حالتِ حیض میں صحبت کرنا:
قرآن حکیم میں اس کی ممانعت کی گئی ہے چنانچہ ارشادہوتا ہے: