| جنّت کی دوچابیاں |
قدرت رکھتا ہووہ نکاح کرے اور جو قدرت نہ پائے تو روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کو توڑتا ہے۔''(سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح، باب ماجاء فی فضل النکاح،رقم۱۸۴۶،ج۴،ص۴۰۶)
حضرت عبد اللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے ہم سے فرمایا،''اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہو ،وہ نکاح کرے کیونکہ یہ نگاہوں کو زیادہ جھکانے اور شرمگاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والا ہے اور جو نکاح کی استطاعت نہیں رکھتا ،تو روزے رکھے ، کیونکہ روزوں سے شہوت ٹوٹتی ہے۔''
(بخاری ،کتاب النکاح،باب من لم یستطع الباء ہ فلیصم ،رقم ۵۰۶۰،ج۳،ص۴۲۲)نکاح کا شرعی حکم:
یاد رہے کہ نکاح ہمیشہ سنت نہیں،بلکہ کبھی فرض،کبھی واجب ، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔اس کی تفصیل درج ِ ذیل ہے۔۔۔۔۔۔
فرض:
اگر یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زناء میں مبتلاء ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے۔ایسی صورتِ حال میں نکاح نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔
واجب:
اگر مہرونفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبۂ شہوت کے سبب زناء یابدنگاہی یامشت زَنی میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے اگر نہیں کریگا توگناہ گار ہوگا۔
سنتِ مؤکدہ:
اگر مہر ، نان و نفقہ دینے اورازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہواور شہوت کا