شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔''روم کے بادشاہ نے کہا :''اپنی ان کہی بات کی تردید میرے لئے بہت آسان تھی جبکہ کہی ہوئی بات کی تردید مجھے بے حد دُشوار محسوس ہوئی ۔''چین کے بادشاہ نے کہا :''جب تک میں خاموش رہا میں اپنی بات کا مالک تھا لیکن جب وہ بات کہہ بیٹھا تو وہ میری مالکہ بن گئی ۔'' ہند کے بادشاہ نے کہا:''مجھے تو بولنے والے پر حیرت ہے کہ وہ ایسی بات کہتا ہی کیوں ہے ؟کہ جو منہ سے نکل جائے تو نقرضي الله عنهان دے اور اگر نہ نکلے توکچھ نفع نہ دے ۔'' (المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)
(10) ایک مرتبہ بادشاہ بہرام کسی درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا کہ اسے کسی پرندے کے بولنے کی آواز سنائی دی ۔ اس نے پرندے کی طرف تیر پھینکا جو اسے جالگا اور وہ ہلاک ہوگیا ۔ بہرام نے کہا :''زبان کی حفاظت انسان اور پرندے دونوں کے لئے مفید ہے کہ اگر یہ نہ بولتا تو اس کی جان بچ جاتی ۔''
(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۷)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
یہ تمام واقعات زبان کے سلسلے میں احتیاط پسندی کے آئینہ دار ہیں۔ ہمیں بھی اپنے اکابرین کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے حفاظتِ زبان کے لئے عملی کوشش شروع کردینی چاہے ،اللہ تعالیٰ ہمارا حامی وناصر ہو ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علیہ وسلم