Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
119 - 152
کو باہر بھیجئے۔'' میں نے عرض کی :''وہ تو سو رہے ہیں ۔'' تو آپ یہ کہتے ہوئے پلٹ گئے کہ ''یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟''میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا ۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنا محاسبہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں :''ابوالفضول! تم نے یہ کیوں کہا کہ یہ سونے کا کون سا وقت ہے ؟ آخر تجھے یہ فضول بات کہنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اب تمہیں سزا بھگتنا ہوگی ، میں سال بھر تجھے تکیہ پر سر نہیں رکھنے دوں گا ۔'' میں نے دیکھا کہ یہ کہتے ہوئے آپ کی آنکھوں سے سیلاب ِ اشک رواں تھا ۔(کیمیائے سعادت ج۲،ص ۸۹۳)

    (7) کسی بزرگ سے پوچھا گیا کہ ''حضرت سیدنااحنف رضي الله عنه آپ لوگوں کے سردار کیسے بنے حالانکہ نہ تو وہ عمر میں سب سے بڑے ہیں اور نہ ہی مال ودولت میں؟'' تو انہوں نے ارشاد فرمایا : ''انہیں یہ سرداری اپنی زبان پر حکومت کرنے (قابو پانے)کی وجہ سے نصیب ہوئی ہے۔''

(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)

    (8) حضرت سیدنا حسان بن سنان تابعی رضي الله عنه ایک بلند مکان کے پاس سے گزرے تو اس کے مالک سے دریافت کیا :''یہ مکان بنائے تمہیں کتنا عرصہ گزرا ہے ؟'' یہ سوال کرنے کے بعد آپ دل میں سخت نادم ہوئے اور اپنے نفس سے مخاطب ہو کر فرمانے لگے ،''اے مغرور نفس ! تو بے کار وبے مقصد سوالات میں قیمتی وقت کو ضائع کرتا ہے ۔'' پھر اس فضول سوال کے کفارے میں آپ نے ایک سال کے روزے رکھے ۔

(منہاج العابدین ، ص ۷۲)

    (9) منقول ہے کہ ایک مرتبہ چار ممالک کے بادشاہ کسی جگہ جمع ہوئے تو ایران کے بادشاہ نے کہا:''میں نہ بول کر کبھی نہیں پچھتایا لیکن بولنے کی وجہ سے بارہا