(2) حضرت سیدنا ابوایوب انصاری رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلي اللہ عليہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کی:''مجھے کوئی مختصر نصیحت فرمائيے۔'' سرورِ کونین صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمایا:''جب تم اپنی نماز کے لئے کھڑے ہو تو رخصت ہونے والے کی سی نماز پڑھو(یعنی آخری نماز سمجھ کر پڑھو)، کوئی ایسی بات نہ کرو، جس کے بارے میں بعد میں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے ہاتھوں میں موجود اشیاء سے مکمل طور پر مایوس ہوجاؤ(یعنی کسی سے مال ملنے کی امید نہ رکھو )۔''(مشکوۃ المصابیح،کتاب الرقاق رقم:۵۲۲۶، ج۳،ص۱۱۶،)
(3) حضرت سیدنا یونس رضي اللہ عنہ جب مچھلی کے پیٹ سے باہر آئے تو طویل عرصہ تک خاموش رہے ۔کسی نے پوچھا : ''آپ کچھ بولتے کیوں نہیں؟''ارشاد فرمایا:''اسی بولنے نے تو مجھے مچھلی کے پیٹ تک پہنچایا تھا ۔''
(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر،ج۱ ، ص ۱۴۷)
(4) حضرت سیدنا عمر فاروق رضي اللہ عنہ ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رضي اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ آپ اپنی زبان کو پکڑ کر فرمارہے ہیں : ''یہی وہ چیز ہے جس نے مجھے مصیبتوں میں گرفتار کر رکھا ہے ۔''(تاریخ الخلفاء ، ص ۱۰۰ )
(5) حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ ایک مرتبہ صفا پر کھڑے ہوکر تلبیہ پڑھ رہے تھے اور فرما رہے تھے :''اے زبان ! اچھی بات کہو فائدہ ہوگا اور بری بات سے خاموشی اختیار کرو سلامت رہو گی اس سے پہلے کہ تمہیں ندامت اٹھانی پڑے ۔''
(احیاء العلوم ،کتاب آفات اللسان، ج۳،ص۱۳۵ )
(6) حضرت سیدنا مالک بن صغیم رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت سیدنا رباح القیسی رضي اللہ عنہ نمازِ عصر کے بعد ہمارے ہاں تشریف لائے اور فرمایا :''اپنے والد محترم