Brailvi Books

جنّت کی دوچابیاں
110 - 152
تیرے گھر والوں کے لیے برکت کا سبب ہو گا۔''

(ترمذی ، کتاب الاستئذان،رقم۲۷۱۵، ج۴،ص۳۲۴)

    (۳) حضرتِ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم  نے فرمایا: ''سلام کو عام کرو سلامتی پالو گے ۔''

(الاحسان بترتیب ابن حبان ،کتاب البر والاحسان ،باب ذکر اثبات السلام ،رقم ۴۹۱ ،ج۱ ،ص ۳۵۷)

مسئلہ:

     جو لوگ قرآن شریف یا وعظ سننے سنانے میں مشغول ہوں یا پڑھنے پڑھانے میں لگے ہوں انہیں سلام نہ کیا جائے۔ (بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۱۸،ص۶۰۹)

مسئلہ:

    خط میں سلام لکھا ہوتا ہے اس کا بھی جواب دینا واجب ہے اس کی دو صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ زبان سے جواب دے اوردوسرا یہ کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیج دے لیکن چونکہ جوابِ سلام دینا فوراً واجب ہے اور خط کا جواب دینے میں کچھ نہ کچھ تاخیر ہوہی جاتی ہے لہذا فوراً زبان سے سلام کا جواب دے دے ۔اعلیٰ حضرت قدس سرہ جب خط پڑھا کرتے تو خط میں جو السلام علیکم لکھا ہوتا،اس کا جواب زبان سے دے کر بعد کا مضمون پڑھتے ۔ (بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۲۵،ص۶۱۰)

مسئلہ:

    کسی نے کہا کہ فلاں کو میرا سلام کہہ دینا اور اس نے وعدہ کر لیا تو سلام پہنچانا واجب ہے اگر نہیں پہنچائے گا تو گنہگار ہو گا۔(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۲۴،ص۶۱۰)

مسئلہ:

    کسی نے (کسی کو)سلام بھیجا تووہ اس طرح جواب دے کہ پہلے پہنچانے والے