| جنّت کی دوچابیاں |
حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ'' جو مسلمان بندہ اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کے لئے دعا مانگتا ہے تو اس کا موکل فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اس کی مثل ہے ۔''
(مسلم ،کتا ب الذکر والدعاء ،رقم ۲۷۳۲ ،ج۱، ص ۱۴۶۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان مسلمان بھائی کے لئے دعائے خیر کرنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم(24) ایک دوسرے کوسلام کرنا
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :
وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ اَوْ رُدُّوۡہَا ؕ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ حَسِیۡبًا ﴿۸۶﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جب تمہیں کوئی کسی لفظ سے سلام کرے تو تم اس سے بہتر لفظ جواب میں کہو یا وہی کہہ دو بے شک اللہ ہر چیز پر حساب لینے والا ہے۔ '' (پ۵،النسآء:۸۶)
(۱) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :'' کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔''( مسلم،کتاب الایمان،رقم۵۴،ص۴۷ )
(۲) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے فرمایا :'' اے بیٹے! جب تم گھر میں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو کیونکہ تمہارا سلام تیرے لیے اور