| جنّت کی دوچابیاں |
کو پھر اس کو جس نے سلام بھیجا ہے یعنی یوں کہے،''علیک وعلیہ السلام۔''
(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر ۲۴،ص۶۱۰)
مسئلہ:
سلام کرنا سنت اور سلام کا جواب فوراًدینا واجب ہے،بلاعذر تاخیرگناہ ہے۔
(بہار شریعت،حصہ ۱۶، مسئلہ نمبر۲،۶ ،ص۶۰۷،۶۰۸)
مسئلہ:
سلام کرنے والے کو چاہے کہ سلام کرتے وقت دل میں یہ نیت کرے کہ اس شخص کی جان اس کا مال اس کی عزت اس کی آبرو سب کچھ میری حفاظت میں ہے اور میں ان میں سے کسی چیز میں دخل اندازی کرنا حرام جانتا ہوں۔ (ماخوذ از بہار شریعت،حصہ ۱۶،ص۶۰۷)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان سلام کرنے میں استعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ عليہ وسلم(3) بعض صورتوں میں نفع بخش اور بعض میں نقصان دہ کلام:
اس طرح کا کلام وہی کرے جو اس کی باریکیوں کو سمجھتا ہو وگرنہ خاموش رہنے میں ہی عافیت ہے ۔ حضرت سیدنا امام شافعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ''جب تم کوئی بات کرنے لگو تو پہلے اس پر غور کر لو ، اگر تمہیں کوئی فائدہ نظر آئے تو کہہ ڈالو اور اگر تم شش وپنج میں پڑ جاؤ تو خاموش رہو یہاں تک کہ تم پر اس کی افادیت کھل جائے ۔''(المستطرف فی کل فن مستظرف ،الباب الثالث عشر ،ج۱، ص ۱۴۵)
جبکہ حضرت سیدنا ابراہیم تیمی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ ''جب مؤمن بات کرنا چاہتا ہے تو دیکھتا ہے ،اگر کوئی فائدہ محسوس ہوتو بات کرتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے ۔''
(احیاء العلوم ،کتاب آفات اللسان،ج ۳،ص۱۴۲ )