Brailvi Books

جنّت کی تیاری
88 - 134
 بھائیوں نے نہایت شفقت کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ لیا، عاشِقانِ رسول کی مَعِیَّت میں ہمارا مَدَنی قافِلہ بابُ الاسلام سندھ کے صَحرائے مَدینہ کے قریب ایک گوٹھ میں پہنچا، دورانِ سفر عاشِقانِ رسول کی خدمات میں دُعا ء کی درخواست کرتے ہوئے میں نے امّی جان کی تشویشناک حالت بیان کی ، اس پر اُنہوں نے امّی جان کیلئے خوب دُعائيں کرتے ہوئے مجھے کافی دِلاسہ دیا، امیرِ قافِلہ نے بڑی نرمی کے ساتھ اِنْفِرادی کوشِش کرتے ہوئے مجھے مزید 30دن کے مَدَنی قافِلے میں سفر کیلئے آمادہ کیا ، میں نے بھی نیّت کر لی۔ میں نے امّی جان کی صحت یابی کیلئے خوب گڑگڑا کر دُعائيں کیں، تین دن کے اِس مَدَ نی قافِلے کی تیسری رات مجھے ایک روشن چہرے والے بُزُرْگ کی زِیارت ہوئی ، اُنہوں نے فرمایا، ''اپنی امّی جان کی فِکْر مت کرو اِن شآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ وہ صِحّت یاب ہو جائيں گی۔'' تین دن کے مَدَنی قافِلہ سے فارِغ ہو کر میں نے گھر آ کر دروازے پر دستک دی دروازہ کُھلا تو میں حیرت سے کھڑے کا کھڑا رَہ گیا، کیوں کہ میری وہ بیمار امّی جان جو کہ چارپائی سے اُٹھ تک نہیں سکتی تھیں ،اُنہوں نے اپنے پاؤں پر چل کر دروازہ کھولا تھا! میں نے فَرطِ مُسرَّت سے ماں کے قَدَم چومے اور مَدَنی قافِلے میں دیکھا ہوا خواب سنایا۔ پھر ماں سے اجازت لیکر مزید 30دن کیلئے عاشِقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی قافِلے میں