Brailvi Books

جنّت کی تیاری
77 - 134
امام محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی ارشاد فرماتے ہیں:زیادہ کھانے سے اعضاء میں فِتنہ پیدا ہوتا اور فساد برپا کرنے اور بیہودہ کام کر گُزرنے کی رغبت جَنَم لیتی ہے ۔ کیونکہ جب انسان خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے تو اس کے جسم میں تکبّر اور آنکھوں میں بدنِگاہی کی خواہش پیدا ہوتی ہے ،کان بُری باتیں سُننے کے مُشتاق رہتے ہیں۔زبان فُحش گوئی پر آمادہ ہوتی ہے ،شرمگاہ شہوت رانی کا تقاضا کرتی ہے ،پاؤں ناجائز مقامات کی طرف چل پڑنے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں۔اِس کے برعکس اگر انسان بھوکا ہو تو تمام اعضائے بدن پُر سکون رہیں گے۔نہ تو کسی بُرائی کا لالچ کریں گے اور نہ بُرائی کو دیکھ کر خوش ہو ں گے۔حضرت اُستاذ ابو جعفر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر کا ارشادِ گرامی ہے :پیٹ اگر بھوکا ہو توجسم کے باقی اعضاء سَیر یعنی پُر سکون ہوتے ہیں۔کسی شئے کا مطالبہ نہیں کرتے۔اور اگر پیٹ بھرا ہوا ہو تو دوسرے اعضاء بھوکے رہ جانے کے باعث مختلف بُرائیوں کی طرف رُجوع کرتے ہیں۔''
 (مِنْھَاجُ الْعَابِدِیْن،الفصل الخامس البطن وحفظہ، ص ۹۲)
ہلکے بدن کی فضیلت
    حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ،نبی کریم،رء وف رّحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا،''اللہ عَزَّوَجَلَّ کو تم میں سب سے زیادہ وہ بندہ پسند ہے جو کم کھانے والا اور خفیف(یعنی ہلکے) بدن والا ہے۔(اَلْجَامِعُ الصَّغیر ص ۲۰ حدیث ۲۲۱)
Flag Counter