Brailvi Books

جنّت کی تیاری
74 - 134
پیٹ کا قُفلِ مد ینہ وغیرہ
    حضرت سیِّدُ نَااَ بُوْ ہُرَیْرَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ُ سے روایت ہے کہ خَاتمُ الْمُرسلین،رَحْمَۃٌ لِلّعٰلَمِیْن،شَفِیعُ الْمُذْنِبِین،اَنِیسُ الْغَرِیْبِین،سِرَاجُ السَّالِکِین،محبوبِ ربُّ الْعٰلَمِیْن عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے اِرْد گِرد بیٹھے ہوئے صحابہ کِرام (عَلَیْہِمُ الرِضْوَان) سے فرمایا، ''تم مجھے چھ(6) چیزوں کی ضَمانت دے دوتو میں تمہیں جَنّت کی ضَمانت دے دوں گا۔ ''میں نے عرض کیا ،''یارسول اللہ ! عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم و ہ چھ(6) چیزیں کون سی ہیں ؟ ''اِرشاد فرمایا ، ''نَمازاداکرنا، زَکوٰۃ دینا، اَمانت لوٹانا ، شرمگاہ، پیٹ اور زبان کی حِفاظت کرنا۔'' (مجمع الزوائد ، باب فر ض الصلاۃ،حدیث ۱۶۱۷،ج ۲، ص۲۱)
چار یاروں کا صَدْقہ شہا  خُلْد میں جا عطا کیجئے

(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانْ وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)

(ارمغانِ مَدینہ ازامیراہلسنت دامت برکاتہم العالیہ)
    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ روایت میں شرم گاہ اور زبان کے ساتھ ساتھ پیٹ کی حفاظت کا ذکر بھی ہے ۔علامہ عبدالرؤف مناوی علیہ رحمۃ اللہ الھادی فیض القدیر جلد 2صفحہ 121پر لکھتے ہیں :پیٹ کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ تم اس میں حرام کھانا یا پانی مت اُتارو ۔

    میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!''پیٹ کا قفلِ مدینہ'' لگاتے ہوئے یعنی اپنے پیٹ کو حرام اور شُبُھات سے بچاتے ہوئے حلال غذا بھی بھوک سے کم کھانے میں دین و دنیا کے بے شُمار فوائد ہیں۔شیخِ طریقت،امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے بھوک کے فضائل کے متعلق ''فیضانِ سنّت ''(جلد اوّل تخریج شدہ)میں ایک پورا باب بنام ''پیٹ کا قفلِ مدینہ ''باندھا ہے ۔آئیے! اس میں سے کچھ رِوایات صفَحَہ۷۰۸ تا۷۱۱ مُلاحظہ فرمائیے چنانچہ
Flag Counter