| جنّت کی تیاری |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!تبلیغ ِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک ''دعوتِ اسلامی'' کے سُنّتوں بھرے مَہکے مَہکے مدنی ماحول میں نماز و دُعا میں خُشُوع وخُضُوع کا مدنی ذِہن دیا جاتا ہے ۔چنانچہ میرے آقا ،شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ ارشاد فرماتے ہیں :مدنی انعام نمبر:44 کیا آج آپ نے نَماز و دُعاکے دوران خُشُوع وخُضُوع(خشوع یعنی بدن میں عاجزی اور خُضُوع یعنی دِل میں گِڑگِڑانے کی کیفیت )پیدا کرنے کی کو شش فرمائی ؟نیز دُعا میں ہاتھ اُٹھانے کے آداب کا لحاظ رکھا؟
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رضائے اِلٰہی (عَزَّوجَلَّ ) کیلئے مَسْجِد بنا نا
اَمِیرُا لْمُؤ منین حضرت سَیِّدُ نا عُثمانِ غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوایَت ہے کہ میں نے سرکارِدو عالم،نورِ مجسّم،شاہِ بنی آدمصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلمکو فرماتے ہوئے سُنا کہ ''جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی خُوشنُودی چاہتے ہوئے مسجد بنائے گا، اللہ عَزَّوَجَلََّّ اُس کے لئے جَنّت میں ایک گھر بنائے گا ۔''
(صحیح بخاری ، کتا ب الصلوۃ ، با ب من بنی مسجد ا ، حدیث ۴۵۰ ، ج ۱، ص ۱۷۱)