| جنّت کی تیاری |
حضرتِسَیِّدُنا بُرَیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوَایت ہے کہ ایک صُبح رسولِ پاک،صاحبِ لولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم بیدا ر ہوئے تو حضرتِسیدنا بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پُکارا پھر دریافت فرمایا '' اے بلال ! رضی اللہ تعالیٰ عنہ کونسی چیزتمہیں
مجھ سے پہلے جَنّت میں لے گئی؟آج شب میں جَنّت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔'' تو حضرتِسیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا ،''یا رسول اللہ عَزَّوَجَلَّ وَ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں(وضو کرنے کے بعد) ہمیشہ دورکعتیں پڑھ کراَذان دیتاہوں اور جب بے وُضُو ہوجاتاہوں تو فوراً وضو کرلیتا ہوں۔'' تو رحمتِ عالم،شہنشاہِ اُمم،تاجدارِ حرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا''(اچھا)یہی وجہ ہے۔''
(مسند احمد ، حدیث بریرہ الاسلمی ، حدیث ۲۳۰۵۷، ج۹، ص ۲۰)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
حضرتِسیدنا عُقْبَہ بن عامِر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم، رسولِ عظیم،رء ُوف رَحِیْم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ''جو شخص اَحْسَن طریقے سے وضو کرے اور دو رکعتیں قلبی توجہ سے ادا کرے تواُس کے لئے جَنّت واجب ہو جائے گی۔''
(صحیح مسلم، کتا ب الطھارۃ ، باب ذکر المستحب عقب الوضوء ، حدیث۲۳۴، ص ۱۴۴)