| جنّت کی تیاری |
سُونا جنگل رات اندھیری چھائی بدلی کالی ہے سونے والو! جاگتے رہیو چوروں کی رکھوالی ہے
جگنو چمکے پتّا کھڑکے مجھ تنہا کا دِل دھڑکے ڈر سمجھائے کوئی پَون ہے یا اَگیا بیتالی ہے
بادل گرجے بجلی تڑپے دھک سے کلیجہ ہو جائے بن میں گھٹا کی بھیانک صورت کیسی کالی کالی ہے
پاؤں اُٹھا اور ٹھوکر کھائی کچھ سنبھلا پھر اوندھے منہ مِینہ نے پھسلن کر دی ہے اور دُھر تک کھائی نالی ہے
ساتھی ساتھی کہہ کے پُکاروں ساتھی ہوتو جواب آئے پھر جھنجلا کر سَر دے پَٹکوں چل رے مولیٰ والی ہے
پھر پھر کر ہر جانب دیکھوں کوئی آس نہ پاس کہیں ہاں اِک ٹوٹی آس نے ہارے جی سے رفاقت پالی ہے
تم تو چاند عرب کے ہو پیارے تم تو عجم کے سورج ہو دیکھو مجھ بے کس پر شب نے کیسی آفت ڈالی ہے
حدائقِ بخشش،ص۱۳۰/۱۳۱اس پریشانی میں نہ جانے کتنا وَقْت گزر گیا،یکایک اُسی سَمْت پھر روشنی نُمُودار ہوئی ۔ ہم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لیکر ہمّت کی اور ایکبار پھر آبادی کی اُمّید پر روشنی کی جانِب تیز تیزقدم چل پڑے۔ جب قریب پہنچے تو ایک شخص روشنی لئے کھڑا تھا،وہ نہایت پُرتپاک طریقے پرہم سے ملا اور ہمیں اپنے مکان میں لے گیا ، عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافِلے کے بارہ مُسافِروں کی تعداد کے مطابِق12کپ موجود تھے
ایک دم اِضافہ ہوگیا ! کیا کریں ،کیا نہ کریں اور کس سَمْت کو چلیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ آہ!آہ!آہ!