| جنّت کی تیاری |
حضرتِسَیِّدُنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوَایت ہے کہ سرکارِ نامدار،مدینے کے تاجدار صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ'' جوباطل جھوٹ بولنا چھوڑدے، اُس کے لئے جَنّت کے کنارے پر ایک گھر بنایا جائے گااور جو حقّ پر ہوتے ہوئے جھگڑنا چھوڑدے گا، اُس کے لئے جَنّت کے وَسْطْ میں ایک گھر بنایا جائے گا اور جس کا اَخلاق اچھّا ہوگا ،اُس کے لئے جَنّت کے اعلی مقام میں ایک گھر بنایا جائے گا۔''
(سنن ترمذی ، کتا ب البروالصلۃ ، باب ماجاء فی المراء ، حدیث ۲۰۰۰ ، ج ۳ ،ص ۴۰۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آفتابِ قادریت ،ماہتابِ رضویت ،امیرِ اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ ہمیں لڑائی جھگڑوں والے اُمُور سے بچا کر راہِ جَنّت پر گامزن کرنے کی سَعْی کرتے ہوئے مدنی انعامات میں فرماتے ہیں ۔مدنی انعام نمبر 26:کسی ذِمہ دار(یا عام اسلامی بھائی سے )بُرائی صادر ہو جائے اور اِصلاح کی ضرورت محسوس ہو تو تحریری طور پر یا براہِ راست مل کر(دونوں صورتوں میں نرمی کے ساتھ)سمجھانے کی کوشش فرمائی یا معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ بِلا اِجازتِ شرعی کسی اور پر اِظہار کر کے غِیبت کا گُناہِ کبیرہ کر بیٹھے؟(ہاں خود سمجھانے کی جرأ ت نہ ہو یا ناکامی کی صورت میں تنظیمی ترکیب کے مطابق مسئلہ حل کرنے میں مضائقہ نہیں)۔ مدنی انعام نمبر:33میں فرماتے ہیں:آج آپ نے (گھر میں اور باہر) کسی پر