اولاد کو پکّا دُنیا دار بنانے والے، اپنے بچوں کو دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ اور جامعۃ المدینہ میں داخل کروا کر حافظ و عالِم و مبلغ بنانے لگے۔بے پردہ و بے عمل نادان بہنیں ،با پردہ و با عمل ہو کر معلمہ ،مدرسہ ،مبلغہ بنیں اور ا ن کے جا بجا باپردہ اجتماعا ت ہونے لگے ۔بے نمازی نہ صرف نمازی بلکہ قاری اور امام و خطیب بننے لگے ۔ خُشک مزاج لذّتِ عشق اور فاسق،تقوٰی و پرہیز گاری بلکہ کُفّار تک نعمتِ اسلام پانے لگے۔واہ کیا بات ہے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کاش!ہم پر بھی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ایسی سیدھی اور میٹھی نظر پڑ جائے کہ ہم نہ صرف نیک بلکہ نیک بنانے کا مدنی جذبہ پا جائیں ۔