ڈائجسٹ اوراَخلاق کوبِگاڑنے والی اُلٹی سیدھی رُومانی کہانیاں اور اَفسانے پڑھنے والے ،''فیضانِ سُنّت''،''رسائلِ عطاریہ''،''بہارِ شریعت''، ''فتاویٰ رضویہ'' اور ''کنزالایمان'' سے بمع ترجمہ و تفسیر تلاوت کرنے لگے۔ ہر وقت گانے گُنگنانے والے ،نعتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے لب ہِلانے لگے ۔ دُنیوی مَفادات اور گندی ذِہنیّت کے ساتھ دوستیاں کرنے والے ،اچھی اچھی نِیّات کے ساتھ ہر ایک پر نیکی کی خاطر اِنفرادی کوشش کرنے لگے۔با ت بات پر جھگڑا کرنے ،خون بہانے اور رشتہ داریاں کاٹنے والے ،پیشگی مُعاف او رصُلْح میں پہل کرنے لگے ۔نا محرم اَجنبی عورتوں سے ہنسی مذاق اوربے تکلّفی کرنے والے،شرعی پردے کی سعادت پانے لگے ،تفریح گاہوں اور مختلف شہروں کی فضول سیر وسیاحت کے شوقین مدنی قافلوں کے مُسافر بننے لگے ۔ماں باپ کا دِل دُکھانے والے ،خدمتِ والدین اور ان کی دَست و پا بوسی کی برکات پانے لگے۔یہو دو نصارٰی کی نقل کرنےوالے نادان اِتّباعِ سُنّتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں چہروں پر داڑھی،بدن پر مدنی لِباس ، سر پر زُلفیں او رعِمامہ شریف کا مدنی تاج سجانے لگے ۔ مُعاشرے کے بد کردارو بدگُفتار سُننِ شہہِ ابرارصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے آئینہ دار بننے لگے۔