مولاناابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کی برکتوں سے کون واقف نہیں،نہ جانے کتنوں کی زندگیوں میں آپ کی برکت سے مَدَنی اِنقلاب برپا ہوا۔الحمد للہ عَزَّوَجَلَّ مئے حُبِ دُنیا کی مستی میں سرشار ، فکرِ آخرت میں بیقرار ہو گئے۔ہر وقت مال و دولت کو بڑھانے کے سُہانے سپنے دیکھنے والے بارگاہِ ربُّ العزت جَلَّ جَلَالُہٗ سے عشقِ رسو ل صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی لازوال دولت کی دُعائیں مانگنے لگے ۔نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر زکوٰ ۃ و عُشر کی ادائیگی میں بُخل و کنجوسی کرنے والے ،بخو شی زکوٰ ۃ و عُشر ادا کرنے اور غریبوں ،مسکینوں، رشتہ داروں کو نوازنے کے ساتھ ساتھ اپنا مال مساجد،جامعات و مدارس کی تعمیر اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لئے دِل کھول کر راہِ خدا عزوجل میں خرچ کرنے لگے۔ لند ن و پیرِس جانے کے آرزو مند،مکہ و مدینہ کی زیارت کی حسرت میں تڑپنے لگے۔بے دَھڑک ہر وقت قہقہے لگانے والے،خوفِ خدا و عشقِ مصطفی عَزَّوَجَلَّ وَصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں آنسو بہانے لگے۔صرف دُنیوی تعلیم کی بڑی بڑی ڈِگریوں کے لیے بیقرار و دِلفگار،ذاتی مطالعہ ،عاشقانِ رسول کے ساتھ مدنی قافلوں میں سفر،سُنّتوں بھرے اِجتماعات میں شرکت اور دعوتِ اسلامی کے جامعاتُ المدینہ کے ذریعے اُخروی اور دِینی علوم کے طلبگا ر بننے لگے۔ ناول،