Brailvi Books

جنّت کی تیاری
32 - 134
    شِفاء شریف،جلد2،صفحہ24 پر ہے کہ جو شخص جس سے محبت رکھتا ہے وہ اُسی کی موافقت (مُ۔وا۔فَ۔قَت)یعنی مُطابَقت کرتا ہے ورنہ وہ اُس کی محبت میں صادِق یعنی سچانہیں ۔ لہٰذا پیارے آقا،بزمِ جَنّت کے دُولہا،میٹھے میٹھے
مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی محبت میں وہ سچا ہے جس پر اُس کی علامتیں ظاہر ہوں۔ اس کی پہلی علامت قرآن نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی پیروی بیان کی ۔ چنانچہ پارہ۳ سورہ اٰلِ عمران ،آیت۳۱ میں ارشاد ہوتا ہے،
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
ترجمہ کنز الایمان:اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا اورتمہارے گُناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اُسی احمد رضا کا واسطہ جو میرے مُرشِد ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ،

عطا کر دو ہمیں اپنی محبت یا رسو ل اللہ  عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم

(ارمغان مدینہ ازامیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ،ص۵۴)
مَحبتِ صحابہ(عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان)
Flag Counter