مُراد توبہ ،ادائے فرائض وطاعات و اخلاص والے عمل اختیار کرکے( یعنی اللہ عَزَّوجلَّ کی بارگاہ میں اپنے گُناہوں سے توبہ کرتے ہوئے ، فرائض مَثَلاً نماز وروزہ وغیرہ اور دِیگر اَحْکاماتِ شرْعِیّہ پر اِخْلَاص کے ساتھ عَمَل کے ذَرِیعے ربّ عزوجل کی بخشش اورجَنّت کی طرف دوڑو کہ یہ راستے جَنّت کی طرف لے جاتے ہیں )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جَنّت ایک مَکَان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اِیمان والوں کے لئے بنایا ہے ۔اُس میں وہ نِعمتیں مُہَیّا کی ہیں جِن کو آنکھوں نے دیکھا نہ کانوں نے سُنااور نہ ہی کسی آدمی کے دِل پر اس کا خطرہ گُزرا ۔دُنیا کی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کو جَنّت کی کسی چیز سے کوئی مناسبت نہیں ۔جنّت ایمان دار،نیک اعمال والوں کے لیے ہے ۔پ۵ سُوْرَۃُ النِّسَآءِ آیت ۱۲۴میں ارشاد ہوتا ہے ،