| جنّت کی تیاری |
مَتْ لگا دِل یہاں پچھتائے گا کس طرح جَنّت میں بھائی جائے گا (مغیلانِ مدینہ از امیر اہلسُنّت دامت برکاتہم العالیہ،ص۱۷۲)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جس طرح ظاہِری عِبَادات وحُسْنِ اَخلاق کے اِعْتِبار سے لوگوں کو مختلف درجوں میں مُنقسم (مُن۔قَ۔سِم)یعنی تقسیم کیا جاتا ہے اسی طرح اجر و ثواب کے درجوں کی بھی تقسیم ہے لہٰذا اگر ہم سب سے اعلیٰ دَرَجہ حاصِل کرنے کی تَمَنّا رکھتے ہیں تو اس کے لئے بھر پور کوشش کرنی ہو گی ۔چنانچہ پ ۴ سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْران کی آیت نمبر ۱۳۳ میں ارشاد ہوتا ہے ۔
وَسَارِعُوۡۤا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنۡ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُہَا السَّمٰوٰتُ وَالۡاَرْضُ ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۳۳﴾ۙ
ترجمہ کنز الایمان :اور دوڑو اپنے ربّ کی بخشش اور ایسی جَنّت کی طرف جس کی چَوڑان میں سب آسمان و زمین آجائیں ،پرہیز گاروں کے لئے تیار رکھی ہے ۔
''تفسیر خزائن ُالْعِرفان ''میں خلیفہ اعلیٰحضرت ،مُفسرِ قرآن ،حضرتِ علامہ مولانا مُفتی سید محمد نعیم الدِّین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں: دوڑو سے