Brailvi Books

جنّت کی تیاری
23 - 134
 ہوگا ،اس کی روشنی مشرق تک جائیگی مگرسُورج میں وہ خوبصورتی و زینت کہاں ؟

    اُس آدمی پرتَعَجُّب ہے جو اِیمان رکھتا ہے کہ جَنّت واقعی ایسا گھر ہے مگر پِھر اُس کا اَہل بننے کے لئے (عمل نہیں کرتا)اور نہ جَنّتی کی موت مرتا ہے اور اہلِ جَنّت کی سی محنت نہیں اٹھاتا اور نہ ہی اہلِ جَنّت کے کارناموں پرنَظَر رکھتا ہے۔ تعجب ہے کہ یہ آدمی اس گھر پر کیسے مطمئن ہو بیٹھتا ہے جِس کی بَربادی کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرچُکا ہے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگر جَنّت میں صرف بَدَن کی سَلَامتی ہوتی اور مَوت،بُھوک،پَیَاس اور تمام حَوَادِث سے ہی بچاؤ ہو تا ،تو بھی اِس قابل تھا کہ ُاس کی خاطِر دُنیا کومُسْتَرد کردیا جاتا اور اُس پر اِس دنیائے تنگ کو تَرجِیح نہ دی جاتی اور اب جبکہاہلِ جَنّت مامُون بادشاہ ہیں ،ہر طرح کی مُسَرّتوں سے مُسْتَفِید ہیں ، جو چاہتے ہیں حاصل کرتے ہیں ۔ عرش کے آنگن میں ہر روز حاضر ہو کراللہ عَزَّوَجَلَّ کا دِیدار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے دیدار میں وہ کچھ حاصل کرتے ہیں، جو جَنّت کی نِعْمت سے حاصل نہیں اور دوسری کِسی طَرَف مُتَوَجِّہ نہیں ہوتے،ہر وقت طرح طرح کی نِعْمتَوں کے چِھن جانے سے بالکل محفوظ و مَامُون ہیں اور ہر طرح کی نعمتوں سے لُطْف اَنْدوزْ ہو رہے ہیں۔ اب ایسی جَنّت کی طرف انسان کا کیوں