جَنّتی بَاہَم مِلنا چاہیں گے تو ایک کاتَخْتْ دُوسرے کے پاس چلا جائے گااور ایک رِوَایَت میں ہے کہ اِن کے پاس نہایت اعلیٰ درجے کی سُوَارِیاں اورگھوڑے لائے جائیں گے اور اُن پر سُوَار ہو کر جہاں چاہیں گے ،جائیں گے۔ سب سے کم دَرَجے کا جوجَنّتِیْ ہے، اُس کے باغات اور بیبیاں اورنِعیم وخُدَّام اور تخت ہزار(1000) برس کی مُسَافَت تک ہوں گے اور اُن میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک سب میں مُعَزَّزْ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجہ ِکریم کے دِیدار سے ہرصُبح و شام مُشَرَّف ہو گا۔ جب جَنّتی جَنّت میں جا ئیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن سے فرمائے گا:''کچھ اور چاہتے ہو جو تم کو دُوْں'' عَرْضْ کریں گے: تُونے ہمارے مُنہ روشن کئے، جَنّت میں داخِل کیا،جَہَنَّم ْسے نَجَات دِی، اُس وقت پردہ کہ مخلوق پر تھا ،اُٹھ جائے گا تو دیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ سے بڑھ کر اُنہیں کوئی چیز نہ ملی ہو گی۔ (بہارِ شریعت تخریج شدہ مکتبۃ المدینہ ص۸۲/۸۶)