جنّتیوں کے لِباس نہ پُرانے ہونگے نہ اُن کی جوانی فنا ہو گی ۔ جَنّت میں نیندنہیں کہ نیند ایک قسم کی مَوت ہے اور جَنّت میں مَوت نہیں۔ جَنّتی جب جَنّت میں جائیں گے ہر ایک اپنے اَعْمال کی مِقْدار سے مرتبہ پائے گا اور اُس کے فضل کی حد نہیں۔ پھر اُنہیں دُنیا کے ایک ہفتہ کی مِقْدار کے بعد اِجازت دی جائے گی کہ اپنے پَرْوَرْدْگَار عَزَّوَجَلَّ کی زِیَارَتْ کریں ، عرشِ الٰہی (عَزَّوَجَلَّ ) ظاہر ہو گا اور ربّ(عَزَّوَجَلَّ ) جَنّت کے باغوں میں سے ایک باغ میں تجلّی فرمائے گا اور اُن جَنّتیوں کے لیے مِنبربِچھائے جائیں گے،نُورکے منبر،مَوتی کے منبر، یاقوت کے منبر، زَبر جَدکے منبر، سونے کے منبر، چاندی کے منبر اور اُن میں کا ادنیٰ مُشک و کافور کے ٹیلے پر بیٹھے گا اور اُن میں ادنیٰ کوئی نہیں، اپنے گُمان میں کرسی والوں کو کچھ اپنے سے بڑھ کر نہ سمجھیں گے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ َکا دیدار ایساصاف ہو گا جیسے آفتاب اور چودھویں رات کے چاند کوہر ایک اپنی اپنی جگہ سے دیکھتا ہے کہ ایک کا دیکھنا دوسرے کے لیے مانِع(رُکاوٹ) نہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر ایک پرتَجَلّی فرمائے گاان میں سے کسی کو فرمائے گا: اے فُلاں بِن فُلاں! تجھے یاد ہے ،جِس دن تُو نے ایسا ایسا کیا تھا...؟!دُنیا کے بعض مَعاصِی(مَ۔عا۔صی) یعنی گُناہ یاد دِلائے گا، بندہ عرض