Brailvi Books

جنّت کی تیاری
127 - 134
قَرْض کے تقاضے میں نَرْمی
    اَمِیْرُ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُناعُثمان بن عَفّا ن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رِوَایت ہے کہ مَکِّی مَدَنِی سُلْطَان،رَحْمَتِ عَالمِیَان صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،'' اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خرید وفَروخْت ،قَرْ ض اداکرنے اورقرض کامُطَالَبہ کرنے میں نَرمی کرنے والے ایک شخص کو جَنّت میں داخِل فرمادیا ۔''
(سنن النسائی ،کتاب البیوع، باب حسن المعاملۃ والرفق ،ج۷، ص ۳۱۹ )
    رحمتِ کِردِگار عَزَّوَجَلَّ کے اُمّید وار اور بہارِ جَنّت کے طلبگار اسلامی بھائیو!زہے نصیب!ہم قرض کے تقاضے میں نرمی اور ادائیگی میں جلدی کرنے والے بن جائیں۔ عاشقِ اعلیٰحضرت،امیرِ اہلسنّت حضرتِ علامہ ،مولانا محمد الیاس عطارؔ قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ مدنی انعام نمبر41 میں ارشادفرماتے ہیں :آج آپ نے قرض ہونے کی صورت میں(با وجودِ استطاعت)قرض خواہ کی اجازت کے بغیر قرض کی ادائیگی میں تاخیر تو نہیں کی؟نیز کسی سے عاریتاً(عارضی طور پر اگر لی ہو تو)لی ہوئی چیز ضرورت پوری ہونے پر مقررہ مدت کے اندر واپس کر دی؟
Flag Counter