۱) گھر میں آتے جاتے بُلند آواز سے سلام کریں۔
۲) والدیا والدہ کو آتے دیکھ کر تعظیماً کھڑے ہو جائیں۔
۳) دِن میں کم ازکم ایک بار اسلامی بھائی والد صاحب اور اسلامی بہنیں ماں کا ہاتھ اور پاؤں چوما کریں۔
۴) والدین کے سامنے آواز دِھیمی رکھیں، ان سے آنکھیں ہر گز نہ ملائیں۔
۵) ان کاسونپا ہوا ہر وہ کام جوخِلافِ شرع نہ ہو فوراً کر ڈالیں۔
۶) ماں بلکہ گھر (اور باہر) کے ایک دِن کے بچے کو بھی ''آپ'' کہہ کر ہی مخاطَب ہوں۔( الحمد للہ عزوجل بانیئ دعوتِ اسلامی،شیخِ شریعت و طریقت(دامت برکاتہم العالیہ) اپنے بچوں سے اور ننھی مُنّی نواسیوں /مدنی منّوں سے بھی '' آپ ''کہہ کر ہی گفتگو فرماتے ہیں)
۷) اپنے محلہ کی مسجدکی عشاء کی جماعت کے وقت سے لیکر دو گھنٹے کے اندر سو جایا کریں۔ کاش ! تہجد میں آنکھ کھل جائے ورنہ کم ازکم نمازِ فجر تو بآسانی (مسجد کی پہلی صف میں باجماعت)مُیسر آئے اور پھر کام کاج میں بھی سستی نہ ہو۔
۸) گھر میں اگر نمازوں کی سُستی،بے پردگی ،فلموں، ڈراموں اور گانے باجوں کا سلسلہ ہو تو بار بار نہ ٹوکیں۔سب کو نرمی کے ساتھ سنّتوں بھر ے بیانات کی کیسٹیں سُنائیں۔ ان شآء اللہ عزَّوَجَلَّ مدنی نتائج بر آمد ہوں گے۔
۹) گھر میں کتنی ہی ڈانٹ بلکہ مار بھی پڑے، صبر صبر اور صبر کیجئے، اگر آپ