Brailvi Books

جنّت کی تیاری
107 - 134
ہیں کہ شاہِ خُوشْ خِصَال،مَحْبُوبِ رَبِّ ذُوالْجلال صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاکہ'' جو شخص کسی مؤمن کے دِل میں خوشی داخِل کرتاہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس خوشی سے ایک فِرِشتہ پیدا فرماتاہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عِبادت اور تَوحِید میں مصروف رہتاہے۔ جب وہ بند ہ اپنی قبر میں چلا جاتاہے تو وہ فِرِشْۃَ اس کے پاس آکر پُوچھتاہے ،''کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ ''وہ کہتا ہے کہ'' تُو کون ہے ؟'' تو وہ فِرِشْۃَ کہتاہے کہ ''میں وہ خُوشی ہو ں جسے تُو نے فُلاں کے دِل میں داخِل کیا تھا ،آج میں تیری وَحشت میں تُجھے اُ نْس پہنچاؤں گا اور سُوالَات کے جوابات میں ثابِت قَدَمْ رکھوں گا اور تُجھے روزِ قِیامت کے مَناظِر دِکھاؤں گا اور تیرے لئے تیرے رَبّ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں سِفَارِش کروں گا اور تجھے جَنّت میں تیرا ٹِھکانادِکھاؤں گا۔''
 (التر غیب والترھیب ، کتاب البر والصلۃ ،باب التر غیب فی قضاء حوائج المسلین ، حدیث ۲۳ ، ج ۳ ، ص ۲۶۶)
شور اُٹھا یہ محشر میں خُلْد میں گیا سگِ عطارؔ

گرنہ وہ بچاتے تو نار میں گیا ہوتا

(صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلِہٖ وسلم)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غُصَّہ نہ کرنا
Flag Counter