رَکعتیں پڑھیں تو اُسے پورے حج اور عُمرہ کا ثواب ملے گا۔‘‘
(ترمذی، کتاب السفر،باب ماذکر مما یستحب من الجلوس فی المسجد۔۔۔الخ، ۲/۱۰۰، حدیث: ۵۸۶)
نمازِ چاشت
حضرت سَیِّدنا ابو ذَر غِفاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مشکبار ہے: آدمی پر اسکے ہر جوڑ کے بدلے صَدَقہ ہے (اور کل تین سو ساٹھ جوڑ ہیں) ہر تسبیح صَدَقہ ہے اور ہر حمد صَدَقہ ہے اور لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنا صَدَقہ ہے اور اَللہُ اَکْبَر کہنا صَدَقہ ہے اور اچھی بات کا حکم کرنا صَدَقہ ہے اور بری بات سے منع کرنا صَدَقہ ہے اور ان سب کی طرف سے دو رکعتیں چاشت کی کفایَت کرتی ہیں۔
(مسلم، کتاب صلاۃ المسا فرین، باب استحباب صلاۃ الضحٰی۔۔۔الخ، ص۳۶۳، حدیث:۷۲۰)
نیکیوں کا مَدَنی گلدستہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے کہ ہَفْتہ وَار سنّتوں بھرے اجتِماع میں شِرکت کرنا صرف ایک نیکی نہیں بلکہ کثیر نیکیوں کا ایک انتہائی حسین مَدَنی گلدستہ ہے اور پھر یہ نیکیاں بھی کسی عام دن نہیں بلکہ جُمُعَہ کے دن۔ جی ہاں! اسلامی اعتبار سے مَغْرِب کے بعد سے نیا دن شروع ہوجاتا ہے