انداز میں بیٹھنے کیلئے درخواست کی کہ اب مجھ سے اِنکار نہ ہوسکا ، میں بیٹھ گیا اور ہم دعوتِ اسلامی کے اوَّلین مَدَنی مرکز جامِع مسجِد گلزارِ حبیب آپَہُنْچے ۔ جب دُعا کیلئے بتّیاں بجھائی گئیں تو یہ سمجھ کر کہ اجتِماع خَتْم ہوگیا ہے،میں اُٹھ گیا، مجھے کیا معلوم کہ اب آنے والے لمحات میں میری تقدیر میں مَدَنی اِنْقِلاب برپا ہونے والا ہے۔ خیر میرے اُس مُحسِن اسلامی بھائی نے مَحبَّت بھرے انداز میں سمجھابجھاکر مجھے جانے سے روکا اور میں دوبارہ بیٹھ گیا۔ اندھیرے میں بآوازِ بُلند ذِکرُ اللہ کی دُھوم نے میرا دِل ہِلادیا! خدا کی قسم ! میں نے زِنْدَگی میں کبھی ایسی رُوحانیت دیکھی تھی نہ سُنی تھی۔ پھر جب رِقّت انگیز دُعا شُروع ہوئی تو شُرَکائے اجتِماع کی ہِچکیوں کی آواز بُلند ہونے لگی یہاں تک کہ میرے جیسا پتھّر دِل آدَمی بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا ،میں نے اپنے گُناہوں سے توبہ کی اور دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کا ہوکر رَہ گیا ۔
تمہیں لُطف آ جائے گا زِنْدَگی کا
قریب آ کے دیکھو ذرا مَدَنی ماحول
تنزُّل کے گہرے گڑھے میں تھے اُن کی
ترقّی کا باعِث بنا مَدَنی ماحول