Brailvi Books

جَنَّت کا راستہ
41 - 51
انسان بھی پگھل اور خوفِ خدا کی دولت پا کر راہِ ہدایت پر آجاتے ہیں۔
پتھردِل  بھی رو پڑا۔۔۔!
بابُ المدینہ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خُلاصہ ہے ، اُٹھتی جَوانی اوراچھّی صِحّت نے مجھے مَغْرور بنا دیاتھا ،نِت نئے فینسی ملبوسات سِلوانا ، کالج آتے جاتے بس کا ٹکٹ بھُلانا، کنڈیکٹر مانگے تو بدمعاشی پر اُتر آنا ،رات گئے تک آوارہ گردی میں وقت گنوانا ،جُوئے میں پیسے لُٹانا وغیرہ ہر طرح کی مَعصِیَّت مجھ میں سرایت کئے ہوئے تھی ۔والِدَین سمجھا سمجھا کر تھک چکے تھے ،میری اصلاح کیلئے دُعا کرتے کرتے امّی جان کی پلکیں بھیگ جاتیں  مگر میں تھا کہ اپنے ہی حال میں مست تھااور میرے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔
شب و روز اسی طرح گزر رہے تھے کہ حسنِ اتفاق سے ہمارے عَلاقے کے ایک اسلامی بھائی کبھی کبھی سرسری طور پر دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں  بھرے اجتِماع  کی دعوت پیش کردیتےاور میں بھی سُنی اَن سُنی کردیتا مگر ایک بار اجتِماع  والی شام وُہی اسلامی بھائی مَحبَّت  بھرے انداز میں ایک دم اِصرار پر اُتر آئے کہ آج تو آپ کو چلنا ہی پڑے گا ، میں ٹالتا رہا مگر وہ نہ مانے اور دیکھتے ہی دیکھتے اُنہوں نے رِکشہ روک لیا اور بڑی مِنَّت کیساتھ کچھ اس