شَراب ورُباب کی مَحفلوں، سینما گھروں کی گیلریوں،ڈرامہ گاہوں اور فَحاشی وعُریانی سے مُرَصَّع نائٹ کلبوں اور جِنسی ورُومانی ناولوں کے مُطالَعہ میں سُکون کی تلاش میں سرگرداں ہے، آخِر سکون کہاں ملے گا؟ آئیے! دیکھئے قرآنِ پاک نے اس بارے میں ہماری کیا رہنمائی فرمائی ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ ترجمۂ کنز الایمان:وہ جو ایمان لائے اور
بِذِکْرِ اللہِ ؕ اَلَا بِذِکْرِ اللہِ انکے دِل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں
تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ ﴿ؕ۲۸﴾ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دِلوں کا چین
(پ۱۳،الرعد:۲۸) ہے۔
اس آیت مبارکہ کے تحت صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی تحریر کرتے ہیں:’’اس کے رحمت و فضل اور اس کے احسان و کرم کو یاد کرکے بے قرار دِلوں کو قرار و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘ (خزائن العرفان، پ۱۳، الرعد، تحت الآیۃ ۲۸، حاشیہ نمبر ۷۷)
﴿5﴾ دُعا کی بَرَکتیں
ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں رِقّت انگیز دُعا بھی ہوتی ہے جس کی بَرَکت سے نہ جانے کتنے ہی خالی دامن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے گوہرِ مُراد