بھی ہے، اجتِماع میں شِرکت کو معمول بنالیجئے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی بَرَکت سے عِلْمِ دِین کے موتی ملیں گے، جَہالت کے اندھیرے دور ہوں گے اور زِنْدَگی عِلْم و عَمَل کی کِرنوں سے جھلملانے لگے گی۔
ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں سنّتوں کی تربیَّت کے لئے حلقوں کا بھی سلسلہ ہوتا جس میں سنَّتیں سیکھی اور سیکھائی جاتی ہیں،سنَّتیں سیکھنے سکھانے کی بھی کیا ہی فضیلت ہے۔ چنانچہ،
سنّتیں سکھانے کی فضیلت
دو عالَم کے مالِک و مختار باذنِ پروردگار ، مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کی: ’’اے اللہ (عَزَّ وَجَلَّ)!ہمارے خُلَفا پر رحم فرما ۔‘‘ عرض کیا:یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! آپ کے خُلَفا کون ہیں؟ فرمایا:’’جو میرے بعد آئیں گے اور میری احادیث اور سنَّتیں بیان کریں گے اور لوگوں کو سکھائیں گے۔ ‘‘(المعجم الاوسط، ۴/۲۳۹، حدیث:۵۸۴۶)
سوشہیدوں کا ثواب
حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص میری