Brailvi Books

جَنَّت کا راستہ
34 - 51
گا، اگر گناہ وثواب کی شُد بُد ہی نہ ہو گی تو یہ سنّتوں  بھری زِنْدَگی کیوں کر گزار سکے گا! صدکروڑافسوس! آج کل نادان مسلمان نفس و شیطان کے بَہکاوے میں آکر اِس فانی جہان پر تو دِل  و جان سے قربان ہے مگر اُسے فرائض تک کا علم نہیں حالانکہ سرکارِدو عالم، نُورِ مجَسَّم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ یعنی عِلْم حاصِل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (اِبن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء، ۱/۱۴۶، حدیث:۲۲۴) اس حدیثِ پاک سے اسکول کالج کی مُرَوَّجہ دُنیوی تعلیم نہیں بلکہ ضَروری دینی علم مُرادہے۔ لہٰذا سب سے پہلے اسلامی عقائد کا سیکھنا فرض ہے، اس کے بعدنَماز کے فرائض و شرائط ومُفسِدات (یعنی نَماز کس طرح دُرُست ہوتی ہے اور کس طرح ٹوٹ جاتی ہے )پھر رَمَضانُ المُبارَک کی تشریف آوَری ہوتوجس پر روزے فرض ہوں اُس کیلئے  روزوں کے ضَروری مسائل ، جس پر زکوٰۃ فرض ہو اُس کے لئے زکوٰۃ کے ضَروری مسائل، اسی طرح حج فرض ہونے کی صورت میں حج کے،نکاح کرنا چاہے تو اس کے،تاجر کو تجارت کے،خریدار کو خریدنے کے،نوکری کرنے والے اورنوکر رکھنے والے کو اِجارے کے،وَعلٰی ھٰذا الْقِیاس(یعنی اوراسی پر قِیاس کرتے ہوئے ) ہر مسلمان عاقِل و