نہ تھی، آج مَدَنی قافِلے کی بَرَکت سے مجھے غُسل کے فرائض سیکھنے کو ملے،افسوس!مجھے تو یہ تک پتا نہ تھا کہ غُسل میں فرائض بھی ہوتے ہیں!‘‘
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غُسل کے فرائض تک سے لاعلمی کا اعتِراف کرنے والے 70سالہ اسلامی بھائی کے واقِعے سے مَدَنی قافِلوں کی ضَرورت و اَہَمِیَّت کا آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ کسی مسلمان کو بیماریا بھوک پیاس میں گرفتار یا بے رُوز گار و قَرضْدار یا آفتوں میں گِرِفتار یا دُنیوی مصیبتوں کا شِکار یا مُشکلات سے دوچار دیکھ کر ہمیں تَرس آتا ہے اور آنا بھی چاہئے لیکن گناہوں کی بھرمار کے سَبَب آخِرت کو داؤ پر لگانے والے اور اپنے آپ کو قَبْر و جہنّم کے عذاب کا حَقْدار بنانے والے مسلمان پر بالکل ہی تَرس نہیں آتا یہ قابِلِ افسوس ہے گویا دُنیوی مصیبتوں کے مُقابَلے میں آخِرت کی مصیبتوں کو کمتر سمجھ لیا گیا ہے! حالانکہ جسمانی مریض کے مقابلے میں روحانی یعنی گناہوں کا مریض زیادہ توجُّہ کا مستحق ہے کہ مسلمان کو دنیا کی تکلیفیں آخِرت میں راحتیں دِلا سکتی ہیں مگر گنہگار کو اُس کے گناہ دوزخ کے غار میں پَہُنْچا سکتے ہیں۔لہٰذا اس بات کی شدَّت کے ساتھ ضَرورت ہے کہ عِلْمِ دِین کی رَوشنی پھیلائی جائے کہ مَعلومات ہوں گی جبھی تو بندہ گناہوں سے بچے