وحدیث اور احکام شرع کی اشاعت و ترویج کیلئےکئی مقامات پر جامعۃ المدینہ قائم ہیں، یوں ہی دار المدینہ کے ذریعے عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ فرض عُلوم کو عام کیاجا رہا ہے، فرض عُلوم کورس، مَدَنی تربیتی کورس، مَدَنی قافلے اور گھر گھر عِلْمِ دِین کی بہاریں لُٹانے والا مَدَنی چینل۔ یہ سب دعوتِ اسلامی کی اسی سوچ کے عکّاس ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیابی باتوں کے ذریعے نہیں بلکہ قرآن وسنّت کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی حاصل کر سکتے ہیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آج کے دور میں ہر طرف پھیلے ہوئے جَہالت کے اندھیروں کو دور کرنے کے لئے بَہُت ضروری ہے کہ ہم اپنی مَصروفیات میں سے کچھ وَقْت نکالیں اور عِلْم کی شَمْع لے کر چار سُو پھیل جائیں۔چنانچہ اجتِماع کے اختِتام پر سفر کرنے والے سنّتوں کی تربیَّت کے مَدَنی قافِلوں میں ضرور بالضرور سفر فرمائیں۔
شیخِ طریقت،اَمِیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘میں تحریر فرماتے ہیں:عاشِقانِ رسول کا30 دن کا ایک مَدَنی قافِلہ راہِ خدا میں سفر پر تھا۔ اِس دَوران ایک مقام پر سُنَّتیں سیکھنے سکھانے کے مَدَنی حلقے میں جب غُسل کے فرائض سکھائے گئے توایک بُزرگ روتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’میری عُمر 70سال ہو چکی ہے مگر مجھے غُسل کے فرائض کی معلومات