Brailvi Books

جَنَّت کا راستہ
30 - 51
 جَہالت کانَشہ اور  دوسرا دُنیوی زِنْدَگی سےمَحبَّت کانَشہ۔ پس تم لوگ (ابھی تو): نیکی کا حکم دیتے ہواور بُرائیوں سے مَنع کرتے ہو اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی راہ میں جِہاد کرتے ہو (لیکن) جب تم میں دُنیا کی مَحبَّت  پیدا ہوجائے گی تو تم نہ تو نیکی کا حکم دو گے اور نہ بُرائیوں سے مَنع کرو گے اور نہ راہ ِ خدا میں جِہاد کرو گے۔ پس اُس وقت قرآن و سنّت کی بات کہنے والا مُہاجِرین اور انصار میں سب سے پہلے ایمان لانے والوں کی طرح ہوگا۔
(مجمعُ الزوائد،  کتاب الفتن، باب النھی عن المنکر عند فساد الناس، ۷ /۵۳۳، حدیث: ۱۲۱۵۹)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!افسوس! فی زمانہ یہ دونوں ’’مذموم نشے‘‘ عام دیکھے جا رہے ہیں۔ جَہالت کے نَشے میں آج ہماری غالِب اکثریَّت بد مست ہے۔ اگر کوئی کہے کہ تعلیم تو خوب عام ہوگئی ہے اور جگہ بہ جگہ اسکول اور کالج کُھل چکے ہیں اب جَہالت کہاں رہی ہے ؟تومُعاف کیجئے دُنیوی تعلیم جَہالت کا علاج نہیں۔ صحیح یہی ہے کہ اسلامی اَحکام پر مبنی فرض عُلُوم حاصِل کرنے ہی سے دِینی جَہالت دُور ہو سکتی ہے۔ فی زمانہ مسلمانوں کی بھاری اکثریَّت میں ضَروری دینی معلومات کا بے حد فُقدان(یعنی کمی) ہے۔ آج دنیا جن لوگوں کو تعلیم یافتہ کہتی ہے اُن کی اکثریَّت دُرُست مَخارِج سے قرآنِ کریم نہیں پڑھ سکتی! یہ جَہالت نہیں توکیا ہے ؟ پڑھے لکھوں  سے وُضو اور