Brailvi Books

جَنَّت کا راستہ
29 - 51
حُصول کیلئے سنّتوں  بھرے  اجتِماعات میں حاضری کی اہمیت و فضیلت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔مگر افسوس! آج مسلمان عِلْمِ دِین سے دُور جا پڑا ہے اور شاید یہ ہی وجہ ہے کہ یہ راہِ ہدایت سے بھٹک کر گناہوں کی دَلْدَلْ میں پھنس چکا ہے۔ جس طرح اندھیرے میں سفر کرنے کے لئے چَراغ کی روشنی ضروری ہے اسی طرح زِنْدَگی کے اس سفر میں کامیابی کے لئے عَقْل کو عِلْم کے چَراغ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر عِلْم کی روشنی نہیں ہوگی توعَقْل کا بے لگام گھوڑا ٹھوکر کھاکر جَہَالَت کے اندھیروں میں بھٹکتا رہ جائے گا ۔آج اگر ہم اپنے اِرْدگِرد پائی جانے والی برائیوں کی وجوہات کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کی ایک بَہُت بڑی وجہ جَہَالَت بھی نظر آئے گی کہ لوگ لا علمی کی وجہ سے ان برائیوں اور گناہوں میں مبتلا ہیں اور یہ تو ظاہر ہے کہ جو جَہالَت کے نشہ میں بدمست ہووہ کیا جانے کہ برائی کیا ہے اور اچھائی کیا؟تاکہ برائی چھوڑ کر اچھائی اختیار کرے۔ چنانچہ، 
حضرتِ سیِّدُنا مُعاذ بن جَبَل رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے رسول، رسولِ مقبول، سیِّدہ آمِنہ کے گلشن کے مَہکتے پھول صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ مقبول ہے: بے شک تم لوگ اپنے ربّ کی طرف سے دلیل (یعنی ہِدایت) پر ہوجب تک تم میں دو نشے ظاہرنہ ہوں،ایک